فهرس الكتاب

الصفحة 994 من 6346

اجل جب آگئی تو پیچھے یا آگے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس کی مثال یوں سمجھیے کہ جیسے کوئی گاہک کسی دوکاندار سے کسی چیز کی قیمت پوچھنے کے بعد کہتا ہے کہ کوئی کمی بیشی، دوکاندار کہتا ہے قیمت تو میں نے پہلے ہی ٹھیک بتائی ہے کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی، گفتگو میں گاہک اور دوکاندار دونوں کا لفظ کمی بیشی سے مراد صرف کمی ہوتا ہے بیشی نہیں ہوتا، اسی طرح یہاں بھی جب کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو پھر قطعًا تاخیر نہیں ہوسکتی، اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے عروج و زوال کا ایک ضابطہ مقرر کر رکھا ہے اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ جب کسی قوم کے گناہوں کا ڈول بھر جاتا ہے تو یہی وقت اس کی تباہی کا وقت ہوتا ہے اور اس کا تعلق مدت یا عرصے سے نہیں بلکہ فساد فی الارض سے ہوتا ہے۔ اقبال کا شعر ہے:

میں تجھ کو بتاتاہوں کہ تقدیر اُمم کیا ہے

شمشیر و سناں اوّل طاؤس و رباب آخر

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت