فهرس الكتاب

الصفحة 4571 من 6346

اوپر والی آیات میں سعادت مند اولاد کا تذکرہ تھا جو ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک بھی کرتی ہے اور ان کے حق میں دعائے خیر بھی۔ اب اس کے مقابلے میں بد بخت اور نافرمان اولاد کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ جو ماں باپ کے ساتھ گستاخی سے پیش آتی ہے۔

'' اف لکما'': افسوس ہے تم پر، اف کا کلمہ ناگواری کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یعنی نافرمان اولاد باپ کی ناصحانہ باتوں پر یا دعوت ایمان و عمل صالح پر ناگواری اور شدت غیظ کا اظہار کرتی ہے۔ جس کی اولاد کو قطعاً اجازت نہیں۔ یہ آیت عام ہے۔

دوبارہ زندہ ہونا:

مطلب ہے کہ پہلے سے فوت شدہ لوگ تو دوبارہ زندہ ہو کر دنیا میں نہیں آئے۔ حالانکہ دوبارہ زندہ ہونے کا مطلب قیامت والے دن زندہ ہونا ہے جس کے بعد حساب ہو گا۔

اگلوں کی داستانیں:

ماں باپ مسلمان ہوں اور اولاد کافر تو وہاں اس طرح کی تکرار و بحث ہوتی ہے۔ ماں باپ ایمان لانے پر اصرار کرتے ہیں لیکن یہ مغرور جو اب دیتا ہے کہ جسے تم ماننے کو کہتے ہو میں تو اسے ایک دیرینہ قصہ سے زیادہ وقعت کی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت