فهرس الكتاب

الصفحة 852 من 6346

اگر ایسا عذاب لانا میرے اختیار میں ہوتا تو کب کا آچکا ہوتا اور سارے جھگڑے ختم ہوچکے ہوتے مگر فیصلے کا اختیار تو اللہ کا ہے ۔ انسان کی برداشت محدود ہے اس لیے وہ فیصلے میں جلدی کرچکا ہوتا، اللہ کے اندر حلم اور بُردباری ہے اس لیے انکار کرنے والوں کو مہلت دیتا ہے اللہ انتقام لینے کی قدرت کے باوجود درگزر کرتا ہے رزق دیتا ہے خوشیاں بھی دیتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: {اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ} (الانفال: ۳۲) ''اگر یہ واقعی حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، ہم پر عذاب لا'' یہ ابو جہل کی دعا تھی۔ اللہ ظالموں کو جانتا ہے عذاب سے دوچار کرنے والا ہے نافرمانیوں کو دیکھتا ہے پھر بھی مہلت دیتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت