فهرس الكتاب

الصفحة 257 من 6346

اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ امیر کی اطاعت ہر حال میں ضروری ہے دشمن سے مقابلہ کے وقت تو اس کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے اور جنگ میں کامیابی کے لیے بھی ضروری ہے کہ فوجی بھوک، پیاس اور دوسری مشکلات کو صبر اور حوصلے سے برداشت کریں۔ طالوت کو پتہ تھا اور اس نے کہا تھا کہ اللہ تمہیں اس نہر سے آزمانے والا ہے ۔ یہ جاننے کے لیے کہ تم کتنے ثابت قدم ہو مشکلات میں کون صبر کرسکتا ہے اور کون اپنی خواہشات کے مقابلے میں کھڑا ہوسکتا ہے۔

آزمائش کیا تھی؟ یہ كہ جس نے پانی سیر ہوکر پی لیا وہ میرا ساتھی نہیں اور جس نے چلو بھر لے لیا تو اس میں کوئی ہرج نہیں۔ اس تنبیہ کے باوجود اکثریت نے جی بھر كر پانی پی لیا، پھر وہ اس قابل نہ رہے کہ لڑائی کرسکیں اللہ نے پختہ عزم کی جانچ کی۔ مضبوط دل کی جانچ کی گئی اور ان لوگوں كو سردار کی اطاعت سے آزمایا۔

طالوت کے لشکر کی تعداد:

شیخی بگھارنے والوں کی تعداد ستّرہزار تھی جن لوگوں نے اپنی پیاس کو برداشت کیا ان کی تعداد صرف تین سو تیرہ یا اس کے لگ بھگ تھی۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے كہ ''یہ وہی تعداد باقی رہ گئی تھی جتنی اصحاب بدر کی تھی۔'' (بخاری: ۳۹۵۸)

ظاہری اسباب پر بھروسا کرنے والے ناکام ہوجاتے ہیں۔ اللہ پر پختہ یقین ہو تو قلیل تعداد بھی بڑے سے بڑے گروہ پر کامیاب ہوجاتی ہے فتح و شکست، زندگی اور موت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ کی مدد ہوتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت