فهرس الكتاب

الصفحة 207 من 6346

جو ترتیب اوپر والی آیت میں بتائی گئی ہے اس کے مطابق عرفات جانا اور وہاں وقوف کرکے واپس آنا ضروری ہے اس لیے کہ قریش مکہ عرفات نہیں جاتے تھے مزدلفہ سے ہی لوٹ آتے تھے، چنانچہ حکم دیا جارہا ہے کہ جہاں سے سب لوٹ کر آئے ہیں وہیں سے تم لوگ بھی لوٹ کر آ ؤ۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ''قریش اور ان کے طریقہ پر چلنے والے لوگ (عرفات کی بجائے) مزدلفہ میں وقوف کیا کرتے تھے ان لوگوں کو حمس کہتے تھے جبکہ باقی عرب عرفات کا وقوف كیا کرتے جب اسلام کا زمانہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ عرفات جائیں وہاں ٹھہریں اور وہیں سے لوٹ کر (مزدلفہ ) آئیں۔ '' (مسند ابو یعلیٰ: ۳/ ۴۳۷)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت