فهرس الكتاب

الصفحة 741 من 6346

اس سے معلوم ہوا کہ دین کی اصل صرف کتاب اللہ پر ایمان لانے سے ہے تورات اور انجیل کا تقاضا ہے کہ رسول اللہ کے دین کو قائم کرو چنانچہ یہود و نصاریٰ کو مخاطب کرکے کہاجارہا ہے کہ تم عقائد و اعمال کو اللہ کی نازل کردہ کتاب پر پیش کرکے خود ہی فیصلہ کرلو کہ تم ایمان لانے کے دعوے میں کس حد تک سچے ہو۔ اور جو حق قبول نہیں کرتے ان کی سرکشی میں اضافہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم کافر قوم پر افسوس نہ کرو۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ وَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ فِيْ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى اُولٰٓىِٕكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ} (حم السجدۃ: ۴۴) ''فرمادیجئے یہ قرآن ایمان والوں کے لیے ہدایت و شفا ہے اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں گرانی (بہرہ پن) ہے اور یہ ان پر اندھا پن ہے گرانی کی وجہ سے گویا ان کو دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے۔ اور فرمایا: {وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَ لَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا} (بنی اسرائیل: ۸۲) ''اور ہم قرآن کے ذریعے سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے۔ اور ظالموں کے حق میں تو اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت