اس آیت میں پہلی بات کو ہی دوسرے الفاظ میں دوہرایا گیا ہے یعنی دور نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یہود و نصاریٰ کی زبانوں سے اس امر کی شہادت ادا ہوچکی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو تعلیم لائے ہیں وہ وہی ہے جو سابقہ انبیاء کی تھی اس کے بعد انھوں نے جو مخالفت کی تو اس کی وجہ تعصب اور مفاد پرستی تھی۔ لہٰذا ایسے لوگوں کا کوئی عمل بھی قابل قبول نہ ہوگا اور آخرت میں ان کے لیے خسارہ ہی خسارہ ہے جس کے بدلے انھیں دردناک عذاب برداشت کرنا ہوگا۔