فهرس الكتاب

الصفحة 4237 من 6346

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مشرکین کو دعوتِ توحید:

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی! تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ اپنے سوا ہر کسی کی عبادت سے اپنی مخلوق کو منع فرما چکا ہے۔ اس کے سوا مدد کے لیے کسی کو مت پکارو۔ چاہے وہ پتھر کی مورتیاں ہوں، انبیاء علیہم السلام اور صلحا ہوں اور چاہے قبروں میں مدفون اشخاص ہوں۔ ان کے ناموں کی نذر و نیاز مت دو۔ ان کے ورد نہ کرو۔ ان سے خوف مت کھاؤ۔ اور ان سے اُمیدیں وابستہ نہ کرو۔ کیوں کہ یہ سب عبادت کی قسمیں ہیں۔ جو صرف ایک اللہ کا حق ہے۔ یہی وہ عقلی اور نقلی دلائل ہیں جن سے اللہ کی توحید یعنی اللہ کے واحد الٰہ اور رب ہونے کا اثبات ہوتا ہے۔ جو قرآن میں جا بجا ذکر کیے گئے ہیں، اسلام کے معنی اطاعت کے لیے جھک جانا اور سر اطاعت خم کر دینا ہے یعنی میں اللہ کے احکام کے سامنے جھک جاؤں، ان سے سرتابی نہ کروں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت