فهرس الكتاب

الصفحة 5391 من 6346

انداز كلام كو اس قدر موكد اس لیے بنایا گیا ہے كہ قرآن كے مخاطب قریشی لوگ قیامت كے كٹر منكر تھے اور اس میں یہ بتایا گیا ہے كہ آپ بھی بس اتنا ہی جان سكتے ہیں كہ قیامت یقینا آنے والی ہے۔ یہ نہیں جان سكتے كہ كب آئے گی یا اس وقت كیا كیفیت ہوگی۔ چنانچہ اسی سورت میں قیامت كی بعض كیفیات بیان كر دی گئی ہیں۔

الحاقة: قیامت كا ایك نام ہے۔ قارعِة: یعنی ایك چیز كو دوسری پر اس طرح مارنا كہ اس سے آواز پیدا ہو۔ نیز قَارِعَةٌ قیامت كا ایك صفاتی نام ہے۔ یعنی اس دن كائنات كی چیزیں ایك دوسرے سے ٹکرا ٹکرا كر كئی طرح كی آوازیں پیدا كریں گے۔

سچ مچ ہونے والی ہے:

یعنی قیامت یا آخرت كا معاملہ اتنا ہی نہیں كہ كوئی مانتا ہے تو مان لے نہیں مانتا تو نہ مانے۔ قیامت آئے گی تو پتا چل جائے گا۔ دوسرا مطلب یہ كہ كس ذریعے سے تجھے اس كی پوری حقیقت سے آگاہی ہو۔ مطلب اس كے علم كی نفی ہے گویا كہ تجھے اس كا علم نہیں۔ كیونكہ تو نے ابھی اسے دیكھا ہے اور نہ اس كی ہولناكیوں كا مشاہدہ كیا ہے گویا كہ وہ مخلوقات كے دائرہ علم سے باہر ہے۔ (فتح القدیر)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت