فهرس الكتاب

الصفحة 290 من 6346

یہ قرآن کی سب سے لمبی آیت ہے جس میں ادھار سے متعلقہ معاملات کو ضبط تحریر میں لانے کی ہدایت دی جارہی ہے۔

سودی نظام کی ممانعت کے بعد صدقات و خیرات کی تاکید کی گئی اور فرمایا قرض کا لین دین مقررہ مدت تک لکھ لیا کرو۔ ایمان والوں کو مخاطب کیا گیا ہے راستہ واضح کیاگیا ہے معیشت کی تنگی پر یہ آیات نازل ہوئیں تاکہ انسان کسی معاملہ پر ٹھوکر نہ کھائے ورنہ ایمان بھی متاثر ہوسکتا ہے۔

قرض دو آدمیوں کے درمیان لین دین کا معاملہ:

واپسی کی اُمید کے ساتھ قرض دیا جاتا ہے لکھنے کی صورت میں مفاد کا تحفظ ہوتا ہے ۔

عدل کے ساتھ لکھنا:

دونوں فریقوں کے درمیان جو معاملہ ہورہا ہے اس کو عدل کے ساتھ کوئی لکھنے والا لکھے اور لکھنے سے انکار نہ کرے ۔ کاتب لکھنے میں اللہ کے بتائے ہوئے اصول پر لکھے یعنی وہ اللہ سے ڈرتا ہو رقم کی صحیح تعداد لکھوائے کمی بیشی نہ کرے۔

لکھوائے کون؟

جو قرض لے رہا ہے وہ تقویٰ کے ساتھ لکھوائے اللہ کا ڈر دل میں ہو۔بے خوف انسان امانت کا معاملہ نہیں کرتا ڈنڈی مار جاتا ہے۔ جیسے روزہ میں انسان اللہ سے ڈرتے ہوئے تنہائی میں بھی کچھ نہیں کھاتا۔ اسی طرح قرض کے معاملہ کو بھی اللہ دیکھ رہا ہے اس لیے انصاف کے ساتھ لکھنا ہے اور اس میں کوئی کمی نہیں کرنی۔ قرض لینے اور دینے والے افراد مختلف کمزوریوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ مثلًا بوڑھا، نادان، لکھوانے کی قدرت نہ رکھتا ہو اور جس نے قرض لینا ہوتو اس کا ولی اس کی مدد کرے ۔ اور ولی بھی انصاف کے ساتھ لکھوائے، کسی کے دبا ؤ میں آکر کم یا زیادہ نہ لکھ دے۔

گواہ بنادو:

معاملات میں شک کی گنجائش رہتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کہ اپنے مردوں میں سے دو گواہ بنالو تاکہ یہ تسلی ہوجائے کہ قرض واپس ہوجائے گا عام طور پر مالی معاملات مرد طے کرتے ہیں، بعض اوقات عورتیں بھی یہ کام کرتی ہیں۔

عورت کی گواہی آدھی کیوں؟

ایک مرد کے مقابلے میں دو عورتوں کی گواہی میں علت و حکمت یہ ہے كہ عورت عقل اور یاد داشت میں مرد سے کمزور ہے اور یہ ایک فطری کمزوری ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکمت و مشیت پر مبنی ہے۔ اس بنیاد پر انھیں کم ترنہیں کہا جاسکتا، گواہی دینا عورت کا مقام نہیں ہے۔ جلد باز ہے بھول جاتی ہے ۔ اس وجہ سے دو عورتوں کی گواہی رکھی گئی کہ اگرایک بھول جائے تو دوسری یاد کرادے۔ عورت مردوں کے معاملات پر پورا عبور نہیں رکھتی، مالی معاملات میں عورت کو مستثنیٰ قراردیا ہے۔ جن معاملات میں مرد موجود نہیں ہوتے وہاں عورت کی گواہی کو قبول کیا جاتاہے، جیسے ولادت اور رضاعت وغیرہ۔ عورت كو حدود و قصاص کی گواہی دینے سے روکا گیا، چار عورتوں کی شہادت پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فیصلہ بھی دیا۔ لیکن بہر حال گواہی عورت کا حق نہیں ہے البتہ نظریہ ضرورت کے تحت گواہی قبول کی جاتی ہے۔

گواہوں کو جب بھی بلایا جائے انکار نہیں کرنا ہوگا:

اور سستی نہ کرو، لیکن انسان ذمہ داریوں سے بچنا چاہتا ہے نفع و نقصان کا علم رکھنے والا سستی نہیں کرے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ قرضہ چھوٹا ہویا بڑا لکھنے میں سستی نہیں کرنی۔

لکھنے کے فوائد:

انصاف کے تقاضے پورے ہونگے، گواہی بھی درست ہوگی۔ گواہ کے فوت ہونے کی صورت میں بھی تحریر کام آئے گی اور فریقین شک و شبہ سے بھی محفوظ رہیں گے۔

لکھنا ضروری ہے:

وہ خریدوفروخت جس میں ادھار ہو یا سودا طے ہوجانے کے بعد بھی انحراف کا خطرہ ہو۔ ورنہ پہلے نقد سودے کو لکھنے سے مستثنیٰ کردیا گیا ہے۔

لکھنے والوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے:

ان کو گواہی دینے کے لیے دور دراز علاقوں میں بلایا جائے جس سے ان كے کام کا حرج ہو یا نقصان ہو، یا ان کو جھوٹی گواہی لکھنے اور دینے پر مجبور کیا جائے۔

اللہ تعلیم دے رہا ہے:

یعنی جن باتوں کی تاکید کی گئی ہے ان پر عمل کرو۔ اور جن چیزوں سے روکا ہے، ان سے بچو، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت