فهرس الكتاب

الصفحة 233 من 6346

بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ وہ بات بات پر قسم کھاتے ہیں۔ اور بعض لوگ دل میں ارادہ کرکے قسم کھاتے ہیں یا دل میں کوئی خیال آیا تو قسم کھالی۔ ارادہ اور خیال دراصل اعمال ہی ہوتے ہیں اور اللہ تو سینوں کے راز بھی جانتا ہے اس لیے فرمایا کہ لغو قسم کی قسموں پر پکڑ نہیں ہوگی۔ لیکن نیت اور ارادے سے کھائی گئی قسم پر ضرور گرفت ہوگی۔ لیکن اگر توبہ کرلو اور کفارہ ادا کرلو تو اللہ معاف کرنے والا ہے۔

کفارہ: دس مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ یا انھیں پوشاک مہیا کرے، یا غلام آزاد کرے، یا تین دن کے روزے رکھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت