فهرس الكتاب

الصفحة 241 من 6346

اس آیت میں رضاعت کا بیان ہے اور والد ات میں وہ مائیں بھی شامل ہیں جن کو طلاق ہو چکی ہو خواہ وہ عدت میں ہوں یا عدت بھی گزرچکی ہو اور وہ بھی جو بدستور بچہ کے باپ کے نکاح میں ہوں۔

رضاعت کی مدت: اس سے معلوم ہوا کہ رضاعت کی مدت زیادہ سے زیادہ دو سال ہے تاہم اس میں حسب ضرورت کم مدت کی گنجائش بھی نکلتی ہے۔

نان و نفقہ:

منکوحہ عورت یا مطلقہ عورت جو عدت میں ہو اس کے کھانے اور کپڑے کی ذمہ داری تو پہلے ہی باپ پر ہوتی ہے اور اگر عدت گزرچکی ہو تو اس آیت کی رو سے باپ ہی مطلقہ عورت کے اخراجات کا ذمہ دار ہوگا کیونکہ وہ اس کے بچے کو دودھ پلارہی ہے۔

ماں کو تکلیف پہنچانے سے مراد: مثلًا ماں بچے کو اپنے پاس رکھنا چاہے مگر مامتا کے جذبے کو نظرانداز کرکے بچہ اس سے چھین لیا جائے، یا یہ کہ ماں بغیر خرچہ لیے بچے کو دودھ پلانے کی ذمہ داری نہ اٹھائے اور اسے دودھ پلانے پر مجبور کیا جائے ۔

باپ کو پریشان کرنے سے مراد: یعنی والد سے اس کی حیثیت سے زیادہ کھانے اور کپڑے کے اخراجات کا مطالبہ کیا جائے یہ مطالبہ خواہ عورت خود کرے یا اس کے ورثاء کریں۔

اگر ماں کے علاوہ کسی اور سے دودھ پلوایا جائے: تو اس کی اجازت ہے بشرطیکہ اس کا بھی نان و نفقہ دستور کے مطابق ادا کیا جائے اگر باپ فوت ہوجائے تو یہ خرچ بچے کے وارث یعنی دادا، چچا وغیرہ ادا کریں گے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت