یعنی اسے اللہ کی عبادت سے جس چیز نے روک رکھاتھا، وہ غیر اللہ کی عبادت تھی، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کاتعلق ایک کافر قوم سے تھا اس لیے توحیدکی حقیقت سے بے خبر رہی اور یہ مطلب بھی ہوسکتاہے کہ سیدنا سلیمان علیہ السلام نے ملکہ کو ان تمام چیزوں کی پرستش سے روک دیا جن کی وہ اپنے زمانہ کفر میں پرستش کیا کرتی تھی۔