پھر انھوں نے جس آدمی کو اونٹنی کو قتل کرنے پر آمادہ کیا تھا اس کو پکارا۔ اس کا نام قدار بن سالف تھا۔ یہ ان کا ایک کڑیل اور مضبوط نوجوان تھا مگر اخلاقی لحاظ سے سب سے زیادہ بدکردار اور بد بخت انسان تھا۔ اس نے اونٹنی کے پاؤں کی رگوں کو کاٹ ڈالا۔ اونٹنی نے ایک چیخ ماری اور دوڑ کر اسی پہاڑ میں غائب ہو گئی جس سے نکلی تھی۔