فهرس الكتاب

الصفحة 2566 من 6346

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے اس جواب سے وہ سوچ میں پڑ گئے۔ اور ایک دوسرے کو لاجواب ہو کر کہنے لگے، واقعی ظالم تو تم ہی ہو جو اپنی جان سے دفع مضرت اور نقصان پہنچانے والے کا ہاتھ پکڑنے پر بھی قادر نہیں، وہ مستحق عبادت کیونکر ہو سکتا ہے۔ بعض نے یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ معبودوں کی عدم حفاظت پر ایک دوسرے کو ملامت کی۔ ترک حفاظت پر ہر ایک نے دوسرے کو ظالم کہا پھر ابراہیم علیہ السلام تو ہمیں یہ کیوں کہہ رہا ہے کہ ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں جب کہ تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولنے کی طاقت سے محروم ہیں۔ عاجزی، حیرت اور انتہائی لاجوابی کی حالت میں انھیں اس بات کا اقرار کرنا پڑا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت