یہ منافق اتنا بھی نہیں سوچتے کہ ہر سال وہ ایک یا دو دفعہ کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کیے جاتے ہیں کبھی قحط سالی، کبھی جنگ، کبھی انکی سازش پکڑی جاتی ہے کبھی ان کا کوئی راز فاش ہوجاتا ہے۔ کبھی خود ہی ایسی بکواس کر بیٹھتے ہیں جن سے انھیں رسوا ہونا پڑتا ہے پھر بھی نہ انھیں اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ نصیب ہوتی ہے نہ آئندہ کے لیے عبرت پکڑتے ہیں اس طرح ان کے دلوں کی نجاست میں ہر آن اضافہ ہوتا رہتا ہے۔