فهرس الكتاب

الصفحة 581 من 6346

پچھلی آیات میں جہاد کا ذکر ہورہا ہے اس تناظر میں اچھی سفارش سے مراد یہ ہے کہ جو شخص مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دے گا اس کے جہاد میں اس کا بھی حصہ ہوگا اور جو منافق حوصلہ شکنی کرتے ہیں تو اس صورت میں ان کا بھی حصہ ہوگا، تاہم اچھائی کا حکم دینا اور بُرائی سے روکنا ہر ایک کے لیے عام حکم ہے۔

سفارش کرنے کا اجر: سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی سائل آتا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کا سوال کیا جاتا تو آپ صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ''تم سفارش کرو اس کا تمہیں ثواب ملے گا۔'' اور اللہ جو چاہتا ہے اسے نبی کی زبان سے جاری کروا دیتا ہے۔ یا فیصلہ کرادیتا ہے۔ (بخاری: ۱۴۳۲)

اسی طرح اگر کوئی شخص چور کی سفارش کرکے اسے چھڑاتا ہے جو پھر چوریاں کرتا تو سفارش کرنے والے کو بھی اس کے گناہ کا حصہ ملتا رہے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت