فهرس الكتاب

الصفحة 5348 من 6346

آیت نمبر ۱۰ سے ۱۳ تك چار آیات میں كافروں كے ایك رئیس كی اخلاقی حالت كو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے مقابلہ میں پیش كیا گیا ہے اور اس كا نام لینے كی ضرورت اس لیے پیش نہیں آئی كہ ان صفات والا كردار صرف ایك ہی تھا اور اس كی یہ صفات پڑھ كر ہر ایك كو معلوم ہو جاتا تھا كہ ان آیات كا روئے سخن كس کی طرف ہے اور یہ قرآن كی انتہائی حكمت كی دلیل ہے كہ كسی برے شخص كا نام لیے بغیر محض صفات سے ہی اس كی نشان دہی كر دی جائے اور ہر ایك كو معلوم ہو جائے كہ جس شخص میں یہ اور یہ صفات پائی جاتی ہوں وہ ایسے اخلاق كا مالك ہوتا ہے۔

طعنے دینا اور چغلیاں كھانا:

غیبت كرنے والے، چغل خور، جو اِدھر كی اُدھر لگائے اور اُدھر كی اِدھر تاكہ فساد ہو جائے۔ طبیعتوں میں بل اور دل میں بیر آجائے۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے راستے میں دو قبریں آگئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ان دونوں كو عذاب ہو رہا ہے اور كسی بڑے امر پر نہیں، ایك تو پیشاب كرنے میں چھینٹوں كا خیال نہیں ركھتا تھا، دوسرا چغل خور تھا۔ (بخاری: ۲۱۶، مسلم: ۲۹۲)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت