فهرس الكتاب

الصفحة 1686 من 6346

جب برادران یوسف اپنے بھائی کی رہائی سے مایوس ہو گئے تو علیحدہ ہو کر تنہائی میں جا کر سب بھائی اس پریشان کن صورت حال پر غور کرنے لگے کہ اب کیا کیا جائے۔ بڑے بھائی نے اپنا خیال ظاہر کیا کہ تمھیں معلوم ہے کہ اس زبردست پختہ وعدے کے بعد جو ہم ابا جان سے کرکے آئے ہیں اب انھیں منہ دکھانے کے قابل تو نہیں رہے نہ یہ ہمارے بس کی بات ہی ہے کہ ہم کسی طرح بنیامین کو شاہی قید سے آزاد کرا لیں۔ پھر اس وقت ہمیں اپنا پہلا قصور اور زیادہ پشیمان کر رہا ہے جو یوسف علیہ السلام کے بارے میں ہم سے سرزد ہو چکا ہے۔ پس اب میں تو یہیں رک جاتا ہوں یہاں تک کہ یا تو ابا جان میرا قصور معاف فرما کر مجھے اپنے پاس حاضر ہونے کی اجازت دیں یا اللہ تعالیٰ مجھے کوئی فیصلہ سُجھا دے کہ میں کسی طرح اپنے بھائی کو ان لوگوں سے چھڑا سکوں۔ یا اللہ تعالیٰ میرے حق میں کوئی بہتر فیصلہ کرے۔ وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت