فهرس الكتاب

الصفحة 910 من 6346

قرآن کریم کی اس بیان کردہ حقیقت اور تاریخ کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ اہل عقل ذہین اور با اصول لوگ کم ہی ہوا کرتے ہیں جیسا کہ قرآن پاک کی سورۃ یوسف: 103میں ہے۔ آپ کی خواہش کے باوجود اکثر لوگ ایمان والے نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ حق و صداقت پر چلنے والے لوگ ہمیشہ تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ حق و باطل کا معیار دلائل پر ہے لوگوں کی اکثریت و اقلیت پر نہیں ۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر ایسی اکثریت کو جاہل، فاسق، ظالم اور مشرک قرار دیا ہے۔ ان کے عقائد اور ان کے اعمال سب کچھ وہم و قیاس پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس لیے آپ کو اور مسلمانوں کو ان کے کہنے پر چلنے سے روک دیا گیا ہے۔ جس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! '' میری اُمت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی جن میں سے صرف ایک فرقہ جنتی ہوگا باقی سب جہنمی۔ اور اس فرقے کی نشانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمائی جو ( مَا اَنَا عَلَیْہِ وَاَصْحَابِی) یعنی میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر چلنے والا ہوگا۔ (ترمذی: ۲۶۴۱)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت