فهرس الكتاب

الصفحة 4317 من 6346

مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ اس طرح وہ اللہ کی دوہری توہین کے مرتکب ہوتے تھے۔ ان کے کہنے کے مطابق تو آسمان کو کب کا پھٹ پڑنا چاہیے تھا۔ فرشتے تو اس کی عظمت سے کپکپاتے ہوئے اس کی پاکی اور تعریف بیان کرتے رہتے ہیں۔ اور زمین والوں کے لیے مغفرت کی دعا بھی کرتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ سورہ مومن (۷) میں ارشاد فرمایا کہ: {اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ} ''حاملان عرش اور اس کے قرب و جوار کے فرشتے اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے رہتے ہیں۔ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں، کہ اے ہمارے رب! تو نے اپنی رحمت و علم سے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے، پس تو انھیں بخش دے، جنہوں نے توبہ کی اور تیرے راستے کے تابع ہیں انھیں عذاب جہنم سے بچا لے۔

پھر فرمایا کہ مان لو کہ اللہ غفورٌ رحیم ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت