پھر ان میں سے غالبًا سب سے بڑے بھائی روبیل نے یوسف علیہ السلام کی جان پر ترس کھاتے ہوئے رائے دی کہ اسے جان سے ختم نہ کرو یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ بہتر یہ کہ اسے کسی دور دراز مقام پر کسی کنوئیں میں پھینک دو جو تجارتی قافلوں کی راہ پرہو کوئی قافلہ آئے گا اسے دیکھ کر اُٹھا لے جائے گا۔ جب گُڑ دیے کام نکلتا ہو تو زہر کیوں دو۔