فهرس الكتاب

الصفحة 189 من 6346

یعنی مرنے والے نے وصیت انصاف کے ساتھ کی ہو مگر کوئی با اختیار اس کو بدل دے یا اس میں تنسیخ کر دے یا چند وارث مل کر اس کو تبدیل کردیں تو یہ سب گنہگار ہونگے اور اللہ تعالیٰ ایسے خود غرض لوگوں کی باتوں کو سننے والا اور ان کے ارادوں کو جاننے والا ہے ۔ اگر مرنے والے سے غلطی سے یا جان بوجھ کر وصیت میں کسی کا حق سلب ہوجائے تو وارثوں کو مل کر صلاح و مشورہ کرکے اس کو صحیح کردینا چاہیے۔ اس طرح ممکن ہے کہ وصیت کرنے والے کا گناہ بھی اللہ تعالیٰ معاف کردے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی نے وارث کے حق میں وراثت کا حصہ ختم کرنے کی کوشش کی۔ اللہ تعالیٰ اس کی وراثت سے اُسے حشر کے دن محروم کردے گا۔ (كشف الجفاء: ۳۴۱)

اور ایك روایت میں ہے كہ آپ نے وصیت سے پہلے میت کا قرض ادا کرنے کا حکم دیا۔ (بخاری: قبل ح: ۲۷۵۰)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت