فهرس الكتاب

الصفحة 3391 من 6346

حضرت ابراہیم کے دلائل توحیدکاجب قوم ابراہیم علیہ السلام سے کوئی جواب نہ بن پڑاتواوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آئے اور یہی باطل پرستوں کی عادت ہوتی ہے،لہٰذااپنی قوت سے حق کودبانے لگے اوراپنی طاقت سے سچ کوروکنے لگے۔کہنے لگے،ایک گڑھاکھودو،اس میں آگ بھڑکاؤاوراس آگ میں اسے ڈال دوکہ جل جائے،چنانچہ انہوں نے آگ کاایک بہت بڑا الاؤ تیار کرکے حضرت ابراہیم علیہ السلام کومنجنیق میں ڈال کراس آگ میں پھینک دیا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے آگ کوحکم دیا کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حق میں ٹھنڈی اور غیر مضر بن جائے۔ چنانچہ ابراہیم علیہ السلام اس آگ میں اس طرح رہے جیسے کوئی شخص باغ اور گل و گلزار میں رہتا ہے۔

ایمان والوں کے لیے نشانیاں یہ اوراس جیسی اورقربانیاں تھیں جن کے باعث آپ کوامامت کامنصب عطاہوا،اپنانفس آپ نے رحمٰن کے لیے،اپناجسم آپ نے میزان کے لیے،اپنی اولادآپ نے قربانی کے لیے اپنامال آپ نے فیضان کے لیے وقف کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ کل ادیان کے پیروکار آپ سے محبت رکھتے ہیں۔اللہ نے آگ کوآپ کے لیے باغ بنادیا،اس واقعہ میں ایمان داروں کے لیے قدرت الٰہی کی بہت سی نشانیاں ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت