فهرس الكتاب

الصفحة 5498 من 6346

ان آیات سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے كہ استغفار كا دنیا میں بھی یہ فائدہ ہوتا ہے كہ اس سے تنگ دستی اور كئی دوسری پریشانیاں دور ہو جاتی ہیں۔ چنانچہ حسن بصری رحمہ اللہ سے ایك شخص نے قحط كا شكوہ كیا۔ دوسرے نے محتاجی كا اور تیسرے نے اولاد نہ ہونے كا تو آپ نے ان تینوں كو استغفار كا حكم دیا كسی نے كہا كہ ان كے شكوے تو الگ الگ ہیں، لیكن آپ ہر ایك كو استغفار كا ہی حكم دے رہے؟ اس كے جواب میں آپ نے یہی آیات (۱۰ تا ۱۲) پڑھ كر اسے مطمئن كر دیا۔ بعض علماء تو كہتے ہیں كہ ہر مقصد كے حصول كے لیے اللہ كے حضور استغفار كرنا چاہیے۔ چنانچہ ایك دفعہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بارش كی دعا كرنے كے لیے باہر نكلے اور صرف استغفار کرنے پر اكتفا كیا كسی نے عرض كیا: امیرالمومنین! آپ نے بارش كے لیے دعا تو كی ہی نہیں؟ فرمایا میں نے آسمان كے ان دروازوں كو كھٹكھٹا دیا ہے جہاں سے بارش نازل ہوتی ہے۔ پھر آپ نے سورئہ نوح كی یہی آیات لوگوں كو پڑھ كر سنا دیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت