فهرس الكتاب

الصفحة 3165 من 6346

عذاب اتمام حجت کے بعد ہی آتاہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے عدل کی خبر دیتاہے کہ کبھی اس نے حجت ختم ہونے سے پہلے کسی اُمت پر یکدم عذاب نازل نہیں کیا۔ چنانچہ رب تعالیٰ رسولوں کو بھیجتاہے ۔ کتابیں اُتارتاہے، خبریں دیتاہے تب ہوشیار کرتاہے، پھر نہ ماننے والوں پر عذاب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں ۔ پس فرمایا کہ ایسا کبھی نہیں ہواکہ انبیاء بھیجنے سے پہلے ہی ہم نے کسی اُمت پر عذاب بھیج دیے ہوں ۔ ڈرانے والے بھیج کر نصیحت کرکے، عذر ہٹا پھر کر ان پر عذاب بھیجا جاتاہے اور اس لیے بھیجاکہ ہر لحاظ سے عذاب کے مستحق ہوچکے تھے۔ اس میں ہماری کچھ زیادتی نہیں تھی ۔ یہی مضمون بنی اسرائیل (۱۵) اور القصص (۵۹) میں بھی بیان کیاگیاہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت