فهرس الكتاب

الصفحة 586 من 6346

البتہ اس حکم سے دو قسم کے لوگ قتل کرنے سے مستثنیٰ ہیں ایک وہ جو کسی ایک قوم کے فرد یا اس کی پناہ میں ہیں جس قوم سے تمہارا معاہدہ ہے ۔ دوسرے وہ تو تمہارے پاس اس حال میں آتے ہیں کہ جن کے سینے اس بات سے تنگ ہیں کہ وہ اپنی قوم سے مل کر تم سے یا تم سے مل کراپنی قوم سے جنگ کریں۔ یعنی تمہاری حمایت میں لڑنا پسند کرتے ہیں نہ تمہاری مخالفت میں۔ اور یہ اللہ کا احسان ہے اگر ایسے لوگ مسلمانوں کے ساتھ لڑنے سے تنگی محسوس نہ کرتے اور اگر اللہ تعالیٰ ان کے دل میں اپنی قوم کی حمایت میں لڑنے کا خیال پیدا کردیتا، تو یقینًا وہ بھی تم سے لڑتے، لہٰذا جو منافقین یا دوسرے لوگ امن پسند ہے لڑائی سے گریز کرتے ہیں۔ تمہاری راہ میں حائل بھی نہیں ہوتے یا صلح پرآمادہ ہیں، تو ایسے لوگوں کے خلاف تمہیں بھی کوئی اقدام نہ کرنا چاہیے۔ اس کی مثال وہ جماعت بھی ہے جس کا تعلق بنی ہاشم سے تھا یہ جنگ بدر والے دن مشرکین کے ساتھ مل کر میدان میں تو آئے تھے لیکن ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے لڑنا پسند نہیں کرتے تھے جیسے حضرت عباس رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ کے چچا تھے اور ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے اور بظاہر کافروں کے کیمپ میں تھے۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے سے روک دیا اور انھیں صرف قیدی بنانے پر اکتفا کیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت