فهرس الكتاب

الصفحة 3605 من 6346

بہت سے نعمتوں کے انعام کرنے والے اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ہمیں اس کا بکثرت ذکر کرنا چاہیے۔ اس پر بھی ہمیں نعمتوں اور بڑے اجر و ثواب کا وعدہ کیا جا رہا ہے۔

بہترین دعا:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعا سنی۔

(( اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی اُعَظِّمْ شُکْرَکَ وَتَبعٌ نَعِیْمَتَکَ وَاُکْثِرُ ذِکْرَکَ وَاحْفِظُ وَصِیَّتَکَ ) ) (ترمذی)

'' یعنی اے اللہ تو مجھے اپنا بہت بڑا شکر گزار، فرمانبردار، بکثرت ذکر کرنے والا اور تیرے احکام کی حفاظت کرنے والا بنا دے۔ '' (ترمذی: ۳۶۰۴)

ذکر احادیث کی روشنی میں:

ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا میں تمہیں بہتر عمل اور بہت ہی زیادہ پاکیزہ کام، اور سب سے بڑے درجے کی نیکی، اور سونے چاندی کو راہ اللہ خرچ کرنے سے بھی زیادہ اور جہاد سے بھی افضل کام نہ بتاؤں؟ لوگوں نے پوچھا حضور! وہ کیا ہے؟ فرمایا، اللہ عزوجل کا ذکر۔ (ابن ماجہ: ۳۷۹۰، ترمذی: ۳۳۷۷)

۱۔ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں ہر وقت مشغول رہو یہاں تک کہ لوگ تمہیں مجنوں کہنے لگیں۔ (احمد: ۳/ ۶۸)

۲۔ امام احمد روایت کرتے ہیں: ''اللہ تعالیٰ کا بکثر ذکر کرو یہاں تک کہ منافق تمہیں ریا کار کہنے لگیں۔''

۳۔ طبرانی روایت کرتے ہیں جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور وہاں اللہ کا ذکر نہ کریں۔ وہ مجلس قیامت کے دن ان پر حسرت و افسوس کا باعث بنے گی۔ (مسند احمد: ۲/ ۲۲۴، ابن کثیر)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت