فهرس الكتاب

الصفحة 965 من 6346

عذاب آنے کے بعد ایسے اعتراف کا کوئی فائدہ نہیں جیسا کہ قرآن میں ہے۔

{فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَ} (المومن: ۸۵)

''جب ہمارا عذاب انھوں نے دیکھ لیا۔ تو اس وقت ان کا ایمان لانا نفع مند نہیں ہوا۔''

مجرم جب پکڑا جاتا ہے تو پھر اقرار جرم کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ عمل کی مہلت ختم ہوجاتی ہے توبہ کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ سخت نادان ہے وہ شخص جو داعیان حق کی دعوت کو بہرے کانوں سے سنے جاتے ہیں اور خدا کی دی ہوئی مہلت کو غفلتوں اور سرشاریوں میں ضائع کردیتے ہیں اور ہوش میں اس وقت آتے ہیں جب اللہ کی گرفت کا مضبوط ہاتھ ان پر پڑچکا ہوتا ہے ایسے وقت میں ہوش میں آنے کا کوئی فائدہ حسرت و اندوہ کے سوا نہیں ہوتا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت