فهرس الكتاب

الصفحة 344 من 6346

ابن کثیر رحمہ اللہ لكھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس کے زمانے اور حالات کے مطابق معجزے عطا فرمائے تاکہ اس کی صداقت اور برتری واضح ہوسکے۔

اللہ کے حکم سے:

کہنے کا مقصد یہی ہے کہ کوئی شخص اس غلط فہمی کا شکار نہ ہوجائے کہ میں خدائی صفات یا اختیارات کا حامل ہوں، نہیں! میں تو اس کا عاجز بندہ اور رسول ہی ہوں یہ جو کچھ معجزات میرے ہاتھ پر ظاہر ہورہے ہیں یہ محض اللہ کے حکم سے صادر ہورہے ہیں۔

فن طب اور حضرت عیسیٰ:

حضرت عیسیٰ کے زمانہ میں طب کافن اپنے عروج پر پہنچا ہوا تھا۔ بڑے بڑے حکمائے یونان بقراط و سقراط، اور ارسا طالیس نے اسی دور میں شہرت پائی تھی۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ کو معجزات بھی ایسے عطا کیے جو اطبا کی دسترس سے باہر تھے۔ مثلًا مٹی سے پرندہ بناکر اُس میں پھونک مارتے تو وہ زندہ ہوکر اڑنے لگ جاتا ۔ مردوں کو کہتے کہ اللہ کے حکم سے اٹھ کر کھڑے ہوجا ؤ تو اٹھ کھڑے ہوتے اور باتیں کرنے لگتے، مادرزاد اندھے کی آنکھوں پر اور کوڑھی کے جسم پر ہاتھ پھیرتے تو وہ بالکل تندرست اور بھلے چنگے ہوجاتے۔ اور اندھوں کی بینائی لوٹ آتی۔ علاوہ ازیں وہ لوگوں کو یہ بھی بتلا دیتے کہ وہ کیا کچھ کھا کر آئے ہیں اور گھر میں باقی کیا چھوڑ کر آئے ہیں۔ اور یہ سب باتیں آپ کے منجانب اللہ رسول ہونے اور آپ کے پاک باز ہونے پر واضح دلائل ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جادوگری کا بڑا زور تھا لہٰذا انھیں ایسا معجزہ عطا فرما یا گیا جس کے سامنے بڑے بڑے جادوگر اپنا کرتب دکھانے میں ناکام رہے جس سے ان پر حضرت موسیٰ کی صداقت واضح ہوگئی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم: کے دور میں شعر و ادب اور فصاحت وبلاغت کا زور تھا، چنانچہ انھیں قرآن جیسا فصیح و بلیغ اور مبنی بر اعجاز کلام عطا فرمایا گیا جس کی نظیر پیش کرنے سے دنیا بھر کے فصحا و بلغا اور ادبا و شعراء عاجز رہے اور چیلنج کے باوجود آج تک عاجز ہیں اور قیامت تک عاجز رہیں گے۔ (ابن کثیر: ۱/ ۴۸۳)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت