فهرس الكتاب

الصفحة 1083 من 6343

(61) جب حق واضح ہوگیا اور تمام جادوگر موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے تو فرعون نے اپنی ذلت ورسوائی پر پردہ ڈالنے کے لیے کہا کہ تم لوگ میری اجازت کے بغیر موسیٰ پر ایمان لے آئے ہو، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم یہاں آنے سے پہلے موسیٰ کے ساتھ مل گئے تھے، اور ایک رچی رچاءی سازش کے مطابق یہاں آئے ہو کہ پہلے تم لوگ موسیٰ کے خلاف بظاہر اپنی تیزی دکھاؤ گے، اور پھر اس کے سامنے جھک جاؤ گے، تاکہ تم سب مل کر قبیطوں کو یہاں سے نکال دو اور ان کی جگہ تم لے لو، موسیٰ تمہارا بادشاہ بن جائے اور تم لوگ اس کے ساتھ رہنے لگو تو عنقریب تم لوگ اپنے انجام کو پہنچ جاؤ گے۔

حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہ بھی فرعون کی سازش تھی، اس لیے کہ موسیٰ (علیہ السلام) تو مدین سے آتے ہی فرعون کے پاس پہنچے تھے اور اپنی دعوت پیش کی تھی اور اس کے مطالبہ پر معجزات پیش کیا تھا، انہیں جادو گروں سے ملنے کا کب موقع ملا تھا ،؟ اور جادوگر تو مختلف علاقوں سے جمع کئے گئے تھے، اور ان کی بھر پور خواہش تھی کہ وہ غالب آجاتے، موسیٰ (علیہ السلام) ان میں سے کسی کو بھی نہیں جانتے تھے اور فرعون سب کچھ جانتا تھا لیکن اس نے اپنی رعایا کو بیوقوف بنانا چاہا جیسا کہ اللہ نے سورۃ زخرف کی آیت (54) فرمایا ہے: فرعون نے اپنی قوم کو بہلایا اور پھسلا یا اور پھسلا یا تو انہوں نے اس کی بات مان لی، اور اس قوم سے برھ کر جاہل اور گمراہ کون ہوسکتا ہے جس سے فرعون جن کہ میں تمہارا اب سب سے بڑا رب ہوں، تو اس کی بات مان لی؟!

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت