(23) کفار مکہ کے بارے میں کہا گیا کہ ان کا کفر وشرک اور ان کی سرکشی اتنی آگے جاچکی تھی کہ ان پر عذاب آجانا چاہیے تھا لیکن رسول اللہ کی بعثت سے پہلے ان پر کسی قسم کا عذاب اس لیے نازل نہیں ہوا کہ وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ اے اللہ تو نے عذاب نازل کرنے سے پہلے اپنا رسول کیوں نہیں بھیجا تاکہ ہم تیرے احکام کی اتباع کرتے اور تجھ پر ایمان لاتے اور اس عذاب سے بچ جاتے۔ چنانچہ اللہ نے اپنا رسول بھیج کر حجت تمام کردی اور کافروں کے لیے کوئی عذر باقی نہیں چھوڑا لیکن رسول آنے کے بعد ان کی حالت نہیں بدلی، بلکہ ہٹ دھرمی شروع کردی اور کہنے لگے کہ جس طرح موسیٰ کو معجزات دیے گئے تھے اگر محمد بھی رسول ہے تو اسے بھی اسی جیسے معجزات کیوں نہیں دیے گئے جن کا مشاہدہ کرنے کے بعد ہم اس پر ایمان لے آتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس ہٹ دھرمی کا یہ جواب دیا کہ اگر ان کی یہ بات صحیح ہوتی کہ کفار معجزات دیکھنے کے بعد ایمان لے آتے تو پھر فرعونیوں نے معجزات دیکھنے کے باوجود کیوں کفر کی راہ اختیار کی وہ بھی توانہی کفار قریش جیسے انسان تھے اور اللہ کی، الوہیت کے منکر اور کفر اور سرکشی میں حد سے بڑھے ہوئے تھے اور موسیٰ وہارون کے بارے میں کہا تھا کہ یہ دونوں جادوگر ہیں اور لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں اور ایک دوسرے کے معاون ہیں اور ہم لوگ ان دونوں کی نبوت کا انکار کرتے ہیں، ایک دوسرا مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر کفار قریش اپنی بات میں سچے ہیں تو پھر محمد سے پہلے موسیٰ پر کیوں نہیں ایمان لائے تھے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ کفار قریش نے یہود مدینہ کے پاس آدمی بھیج کر رسول اللہ کی صداقت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں اس کے اوصاف تورات میں موجود ہیں اور وہ کذاب ودجال نہیں ہے تو کفار قریش نے تورات کا بھی انکار کردیا اور کہا کہ موسیٰ اور محمد دونوں ہی جادوگر ہیں اور جادو کے ذریعہ موسیٰ نے اپنے زمانہ کے لوگوں کو گمراہ کیا اور اب محمد بھی وہی کام کررہا ہے اس لیے ہم دونوں کی نبوت کا انکار کرتے ہیں۔