(38) بعث بعد الموت، قیامت کے دن کے حساب اور جزا و سزا اور دیگر مشاہد آخرت کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ہم نے انسانوں کی رہنمائی کے لئے اس قرآن میں بہت سی مثالیں بیان کردی ہیں جو توحید باری تعالیٰ، صداقت انبیاء اور بعث بعد الموت جیسی حقیقتوں کیپ وری وضاحت کرتی ہیں اور کوئی شک و شبہ نہیں چھوڑتی ہیں۔ لیکن اہل کفر و شرک کو ان سے کوء فائدہ نہیں پہنچتا ہے اور عناد و سرکشی کی وجہ سے موسیٰ و عیسیٰ جیسی نشانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں، حالانکہ یہ اپنی سرکشی میں اس قدر آگے بڑھ گئے ہیں کہ اگر آپ انکے کہنے کے مطابق کوئی نشانی پیش بھی کردیں گے تو انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا اور کہیں گے کہ یہ بھی کوئی جادو اور دھوکہ دہی ہے۔
آیت (60,59) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ صدق نیت کے ساتھ حق کے طالب نہیں ہوتے، اللہ ان کے دلوں پر اسی طرح مہر لگا دیتا ہے اگر آپ ان کے سامنے ہزار نشانیاں پیش کردیں گے تب بھی ایمان نہیں لائیں گے، اس لئے میرے نبی ! آپ صبر و استقامت کے ساتھ اپنی ذمہ داری پوری کرتے رہئے اور یقین رکھئے کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے، وہ اپنے رسولوں کو تنہا نہیں چھوڑ دیتا ہے، ان کی مدد ضرور کرتا ہے اور بالاخر عزت و غلبہ انہی کو حاصل ہوتا ہے، جیسا کہ سورۃ الصافات آیات (173,172,171) میں فرمایا ہے: (ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین، انھم لھم المنصورون، وان جندنالھم الغالبون) " اور البتہ ہمارا وعدہ پہلے ہی اپنے رسولوں کے لئے صادر ہوچکا ہے کہ یقیناً وہی مدد کئے جائیں گے اور ہمارا ہی لشکر غالب رہے گا۔ "
اے میرے نبی ! مشرکین کا عناد اور کفر پر ان کا اصرار اور آپ کے خلاف ان کی سازشیں کہیں آپ کو طیش عدم صبر اور عدم بردباری میں نہ مبتلا کردیں جو آپ کے شایان شان نہیں۔ آپ کے رب کا وعدہ برحق ہے، وہ آپ کی اور آپ کے مومن ساتھیوں کی ضرور مدد کرے گا اور انجام کار آپ ہی لوگ غالب رہیں گے۔ وباللہ التوفیق