فهرس الكتاب

الصفحة 6187 من 6343

(2) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ ابتدائے بعثت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بڑی تکلیفیں اٹھانی پڑیں، پھر آہستہ آہستہ حالات بہ سے بہتر ہوتے گئے، حتی کہ اللہ نے آپ کا شرح صدر فرما دیا، آپ کے دل پر جو بار گراں تھا اسے دور کردیا اور آپ کا ذکر جمیل سارے عالم میں پھیلا دیا اللہ تعالیٰ کا یہی نظام حیات ہے کہ وہ تنگی کے بعد آسانی لاتا ہے آدمی جب اپنی فکر و نظر استعمال کر کے مشکلات سے نکلنا چاہتا ہے اور پھر اللہ پر بھروسہ کر کے آگے بڑھتا جاتا ہے اور ہمت نہیں ہارتا، تو طوفان رک جاتا ہے آندھیاں بند ہوجاتی ہیں اور بالاخر سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے یہی حال نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تھا ابتدائے نبوت میں آپ کو اور آپ کے اصحاب کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن مردر زمانہ کے ساتھ حالات نے پلٹا کھایا اور تنگی آسانی میں بدلتی چلی گئی۔

ابن جریر، عبدالرزاق، حاکم اور بیہقی نے حسن بصری سے (مرسلاً) روایت کی ہے کہ ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر سے بہت خوش نکلے اور فرمایا کہ ایک تنگی دو آسانیوں کو مغلوب نہیں کرسکتی، اللہ تعالیٰ نے فرماا: (فان مع العسر یسرا، ان مع العسر یسرا) " بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے، بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ "

طبرانی، حاکم اور بیہقی وغیرہ نے انس (رض) سے روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے تھے اور آپ کے سامنے ایک سوراخ تھا آپ نے فرمایا:" اگر تنگی اس سوراخ میں داخل ہوگی تو آسانی آئے گی اور اس میں داخل ہو کر اسے نکال دے گی" تو اللہ تعالیٰ نے (فان مع العسر یسرا، ان مع العسر یسراً) نازل فرمایا۔ اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن مفسرین نے اس آیت کی جو تفسیر بیان کی ہے اس سے اس معنی کی تائید ہوتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت