فهرس الكتاب

الصفحة 4018 من 6343

(6) اقوام گزشتہ کے کفر و شرک پر اصرار اور ان کی ہلاکت و بربادی کے قصے بیان کر کے، کفار قریش کو دھمکی دی جا رہی ہے کہ کہیں ان کا انجام بھی انہی قوموں جیسا نہ ہوا، اور ساتھ ہی ساتھ انہیں توبہ اور رجوع الی اللہ کی دعوت بھی دی جا رہی ہے تاکہ اللہ انہیں معاف کر دے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے میرے نبی ! آپ کی قوم سے پہلے نوح کی قوم اور قوم عاد یعنی ہود کی قوم، اور جاہ وسطوت والے فرعون نے اللہ کے انبیاء کی تکذیب کی اور قوم ثمود، قوم لوط اور ایکہ والوں نے بھی اپنے اپنے زمانے کے رسولوں کی تکذیب کی اور وہ قومیں کفار قریش کے مقابلے میں تعداد، قوت اور مال و دولت میں بہت آگے تھیں، لیکن جب اللہ کا عذاب آگیا تو ان میں سے کوئی قوم بھی ہزار جتن کے باوجود اس سے نہ بچ سکی۔

آیت (21) میں فرعون کی صفت " میخوں والا" بتائی گئی ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ یا تو اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی حکومت بہت ہی قوی تھی جیسے زمین پر میخیں گاڑ دی گئی ہوں، یا یہ کہ اس کے لشکر کی تعداد اتنی کثیر تھی کہ جہاں ٹھہرتا خیموں کی کثرت سے زمین بھر جاتی تھی، یا مراد یہ ہے کہ فرعون جب کسی کو عذاب دیتا تو اس کے ہاتھ پاؤں میں کیخ ٹھوک دیتا تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت