28۔ جن گروہوں نے اللہ تعالیٰ کی سیدھی راہ کو اختیار نہیں کیا، ان میں منافقین پیش پیش تھے، اور ان سے اسلام کو بہت زیادہ نقصان پہنچا۔ آیات (47) سے (50) تک انہی منافقین کی صفات بیا کی گئی ہیں، کہ وہ اپنی زبان سے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا اقرار کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ہم ان کی اطاعت کرتے ہیں، لیکن جب مسلمانوں کی مجلس سے دور ہوتے ہیں تو اپنے دل کے پھپھولے پھوڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کب محمد پر ایمان لائے تھے، اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے بارے میں یہی کہا کہ وہ کبھی بھی مومن نہیں تھے، اور ان کے جھوٹا ہونے کی دلیل یہ ہے کہ جب کسی قضیہ میں انہیں قرآن و سنت کے مطابق فیصلہ کی دعوت دی جاتی ہے اور وہ حق پر نہیں ہوتے ہیں تو انکار کردیتے ہیں اور جب وہ حق پر ہوتے ہیں تو رسول اللہ کے پاس فیصلہ کروانے کے لیے جلدی آتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ بہر صورت حق کے مطابق فیصلہ کریں گے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آیت (50) میں فرمایا کہ قرآن و سنت سے ان کا یہ اعراض کیا اس لیے ہے کہ ان کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے یا اس لیے ہے کہ وہ رسول اللہ کی نبوت میں شبہ کرتے ہیں، یا ان کا خبث باطن اس قدر بڑھ گیا ہوا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں بدگمانی رکھتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ ناانصافی کریں گے؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کا اعراض ان ساری برائیوں کے ساتھ اس لیے ہے کہ ظلم جیسی بدترین صفت ان کے اندر پائی جاتی ہے وہ اپنے کفر و نفاق کی وجہ سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں، اور مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیاں کر کے ان پر بھی ظلم کرتے ہیں۔