(4) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لوگو ! جس دن تم جہنم کو اپنی آنکھوں سے دیکھوگے، اس دن تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا جو اللہ نے تمہیں دنیا میں دیا تھا ابن عباس (رض) نے " النعیم" سے مراد صحت و عافیت اور قوت سماع و بصر لیا ہے کسی نے اس سے صحت و فراغت کسی نے ماکولات و مشروبات اور کسی نے صحت وامن مراد لیا ہے، امام شوکانی لکھتے ہیں: اولیٰ یہ ہے کہ اس سے اللہ کی متام نعمتیں مراد لی جائیں، جن سے بندے دنیا میں مستفید ہوتے ہیں۔
نعمتوں کے بارے میں بندوں سے سوال یہ کیا جائے گا کہ انہوں نے ان پر اپنے خالق و مالک کا شکر ادا کیا یا نہیں، تو جس نے دنیا میں کا شک ادا کیا ہوگا وہ نجات پا جائے گا اور جس نے ناشکری کی ہوگی وہ اس کی گرفت میں آجائے گا۔