فهرس الكتاب

الصفحة 1321 من 6343

60۔ منافقین ہر حال میں مسلمانوں میں عیب لگاتے تھے، اگر کوئی زیادہ مال اللہ کی راہ میں دیتا تو کہتے کہ یہ ریا کار ہے، اور اگر کوئی مزدور اپنی مزدوری لا کر صدقہ کے مال میں جمع کردیتا تو کہتے کہ اللہ کو اتنے تھوڑے مال کی کیا ضرورت تھی، محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ کی ترگیب دلائی تو عبدالرحمن بن عوف نے چار ہزار صدقہ کیا، اور عاصم بن عدی نے ایک سو وسق کھجور صدقہ کیا، تو منافقین نے طنز کیا کہ یہ محض ریا کاری ہے، اور ابو عقیل نے اپنی مزدوری ایک صاع کھجور کا محتاج نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ایسے منافقین کا یہ انجام بتایا کہ وہ اپنے مومن بندوں کے استہزاء کا انتقام ضرور لے گا، منافقین کو رسوا کرے گا، اور اپنے مومن بندوں کو اونچا کردکھائے گا، اور آخر میں ان منافقین کو دردناک عذاب ملے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت