فهرس الكتاب

الصفحة 3395 من 6343

(16) لوط (علیہ السلام) کا واقعہ بھی نوح اور ابراہیم علیہما السلام کے واقعے کی طرح نبی کریم کو تسلی دینے کے لیے بیان کیا جارہا ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی سدوم، عموریہ اور آس پاس کی دیگر بستیوں کے لیے نبی بناکربھیجا تھا وہ لوگ شریک اور انکار آخرت کے علاوہ لواطت جیسے قبیح اور گھناؤنے گناہ کا ارتکاب کرتے تھے مسافروں پر چڑھ بیٹھتے، ان کے ساتھ زبردستی لواطت کرتے تھے ان کا مال واسباب لوٹ لیتے تھے اسی لیے لوگوں نے ان بستیوں سے گذرنا چھوڑ دیا تھا اور اپنی مجلسوں میں جمع ہو کر زور زور سے گوز کرتے، اپنے تہ بند اتار کرننگے ہوجاتے، اور آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ لواطت کرتے راہ چلنے والوں پر پتھر چلاتے، اور مینڈھے اور مرغے لڑاتے (مسند احمد، ترمذی، ابن مردویہ) لوط (علیہ السلام) نے انہیں توحید کی دعوت دی ان گناہوں سے روکا اور اللہ کے عذاب کا خوف دلایا لیکن ان پر کوئی اثر نہ ہو بلکہ ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ اگر تم اپنی بات میں سچے ہو کہ تم اللہ کی نبی ہو، اور یہ کہ ہم نے اگر اپنے اطوار نہ بدلے تو ہم پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا تو پھر ایسا کر ہی گذرو لوط (علیہ السلام) نے ان کے کفر پر اصرار کرنے اور ان کی بداعمالیوں سے تنگ آکر دعا کی کہ میرے رب ان ظالموں کے خلاف میری مدد کر، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کرلی جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت