22 مجاہد، قتادہ، ابن عابس (رض) اور بہت سے مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے مراد اونٹ ہے، جس کے ذریعہ لوگ خشکی کا راستہ طے کرتے ہیں، قدیم زمانے میں عرب کے لوگ اونٹ کو شکی کا سفینہ کہتے تھے، ابن عباس (رض) کا ایک دوسرا قول ہے کہ اس سے مراد وہ کشتیاں ہیں جو کشتی نوح کے بعدبنائی گئیں اور قیامت تک بنتی رہیں گی۔