فهرس الكتاب

الصفحة 2657 من 6343

(26) مشرکین کی جانب سے نبی کریم کو جو تکلیف پہنچتی رہی اس پر انہیں صبر کرنے کی تلقین کی گئی ہے، اور تسلی دی گئی ہے کہ ہر دور کے کافروں کو اپنے انبیا کے ساتھ ایسا ہی معاملہ رہا ہے۔ سب نے اپنے انبیا کی تکذیب کی، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی رسی ڈھیل دی اور جب وہ کفر و سرکشی اور ظلم و عدوان کی انتہا کو پہنچ گئے تو اللہ نے انہیں اچانک اپنی گرفت میں لے لیا۔

اسی مفہوم کی تائید کے طور پر آیت (45) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بہت سی بستیوں والوں نے جب شرک باللہ اور تکذیب رسول کے ذریعہ اپنے آپ پر ظلم کیا تو ہم نے ان بستیوں کو تباہ کردیا، ان کے تمام مکانات اپنی چھتوں کے بل زمین بوس ہوگئے وہ کنوئیں جن کا پانی پیتے تھے اب بے کار پڑے ہیں اور وہ قصور و محلات جن میں وہ داد عیش دیتے تھے ان میں اب ہود کا عالم ہے۔

آیت (46) میں کفار قریش اور دیگر قبائل عرب سے کہا جارہا ہے کہ وہ زمین میں گھوم کر ہلاک کردہ قوموں کے آثار قدیمہ پر نگاہ عبرت کیوں نہیں ڈالتے، شاید کہ ان میں غور و فکر سے ان کے دل زندہ ہوجائیں اور ان کے کان خیر کی باتوں پر توجہ دینے لگیں، ابھی تو ان کی آنکھیں اور ان کے کان کسی کام کے نہیں ہیں، اس لیے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتی ہیں، بلکہ لوگوں کے دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہوتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت