فهرس الكتاب

الصفحة 3613 من 6343

(39) زید بن حارثہ اور زینب بنت حجش کے نکاح و طلطاق کا واقعہ اور اس کے ضمن میں متعدد احکام بیان کرنے کے بعد مناسب رہا کہ مسلمانوں کے لئے ایسی عورت کی عدت کا حکم بیان کردیا جائے جسے نکاح کے بعد اور مباشرت سے پہلے طلاق دے دی جائے۔

ایسی عورت پر عدت گذارنا واجب نہیں ہے، اس لئے کہ عورت عدت اس لئے گذارتی ہے اور اگر سا کا مہر مقرر کردیا گیا تھا تو اسے نصف مہر ملے گا اور کچھ مال بطور دلجوئی دے دینا مستحب ہے اور اگر اس کا مہر مقرر نہیں تھا تو شہر کی مالی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے کچھ مال دے دیا جائے گا اور بغیر اذیت پہنچائے اسے اس کے گھر والوں کے پاس جانے دیا جائے گا۔

حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اس آیت کریمہ سے بہت سے احکام ماخوذ ہیں:

۔1 کبھی کلمہ نکاح بول کر صرف عقد مراد لیا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں اس معنی پر دلالت کرنے والی اس آیت سے زیادہ صریح کوئی آیت نہیں ہے۔

۔2 مباشرت سے پہلے بیوی کو طلاق دینی جائز ہے۔

۔3 ابن عباس، ابن المسیب، حسن بصری اور زین العابدین وغیرہم نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ نکاح سے پہلے طلاق واقع نہیں ہوتی ہے، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ نکاح سے قبل طلاق نہیں ہے۔

۔4 علماء کا اتفاق ہے کہ جس عورت کو مباشرت سے پہلے طلاق دے دی جائے اس پر کوئی عدت نہیں ہے۔ وہ طلاق کے بعد فوراً شادی کرسکتی ہے۔ البتہ مباشرت سے پہلے شوہر کا انتقال ہوجائے تو عوتر چار ماہ دس دن عدت گذارے گی۔

۔5 آیت میں " قصتموھن" سے مراد یہ ہے کہ اگر ایسی عورت کا مہر مقرر ہوگا تو اسے نصف مہر ملے گا اور اگر اس کا کوئی مہر مقرر نہیں ہوگا تو اسے کچھ مال دے دیا جائے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت