29۔ اس اسلوب کلام میں ان مشرکین مکہ کے لیے دھمکی ہے جنہوں نے بعثت محمد اور نزول قرآن سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا، اور اپنے کفر و شرک پر جمے رہے، اللہ تعالیٰ نے نبی کریم سے کہا، آپ دعا کرتے رہیے کہ میرے رب ! اگر تو کافروں پر عذاب نازل کرتے وقت مجھے زندہ رکھے تو ان ظالموں کے ساتھ مجھ پر بھی عذاب نہ نازل کرنا۔ مفسرین لکھتے ہیں اس میں اشارہ ہے کہ وہ عذاب بڑا ہی شدید ہوگا اور کافروں کے اس استہزا کی تردید ہے کہ اگر عذاب کی بات صحیح ہے تو پھر جلد کیوں نہیں آجاتا۔
آیت (95) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے، ہم اسے کسی وقت بھی لانے پر قادر ہیں، لیکن حکمت کا تقاضا ہے کہ اسے اس کے وقت مقرر تک موخر رکھا جائے۔