(9) کفار و مجرمین اور صالحین اور اہلت قویٰ کا انجام اور ہر ایک کی جزا و سزا بیان کرنے کے بعد، اللہ تعالیٰ نے ابو جہل، ولید بن مغیرہ عاص بن وائل اور انہی جیسے دیگر مجرمین قریش کے ظلم و طغیان کا ذکر کیا کہ قیامت کے دن ان کیب ارے میں کہا جائے گا کہیہی وہ مجرمین ہیں جو دنیا میں ان مومنوں کی ہنسیاڑاتے تھے جو ایک اللہ پر ایمان لے آئیتھے، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کا رسول مان لیا تھا اور اپنے آباء و اجداد کے مشرکانہ طرور طریقوں سے تائب ہوگئے تھے، اللہ کے یہ نیک بندے جب مکہ کی سڑکوں اور گلیوں میں ان کے پاس سے گذرتے تھے تو کبر و غرور میں آ کر ان کا مذاق اڑتے تھے اور آپس میں ان کے بارے میں ایک دوسرے کی طرف آنکھوں سے اشارہ کرتے تھے اور جب اپنی مجلسوں سے اٹھ کر اپنے گھروں اور بال بچوں کی طرف چلتے تھے تب بھی مومنوں کا مذاق اڑاتے تھے ان کی عیب جوئی کرتے تھے اور خوب چٹخارے لیتے تھے۔