فهرس الكتاب

الصفحة 3737 من 6343

25 کفار مکہ کو غور و فکر کی دعوت دی جا رہی ہے کہ ہر عقلمند انسان اپنے جیسے دوسرے انسان کی حالت دیکھ کر عبرت و نصیحت حاصل کرتا ہے کہ اگر میں نے بھی اس جیسا کام کیا تو ایسے ہی انجام سے دیکھا ہے جو ان سے پہلے، ان کے قرب و جوار میں رہتی تھیں، اور ان سے زیادہ قوت کی مالک تھیں، لیکن جب انہوں نے اللہ سے سرکشی کی تو اس نے انہیں ہلاک کردیا اور انہیں کوئی نہیں بچا سکا، اس لئے کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اللہ کو عاجز بنا سکے اور اس سے راہ فرار اختیار کرلے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک مسنون دعا میں آیا ہے:" ولا ملجاً ولا منجاً منک الا الیک"" میرے رب تجھ سے بھاگ کر تیری ہی جناب میں پناہ و نجات مل سکتی ہے" (بخاری، مسلم، ابوداؤد)

آیت 45 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ آدمی کے ہر گناہ پر دنیا میں ہی اس کا مواخذہ کرتا اور اس پر عذاب نازل کردیتا تو کرہ ارض پر کوئی ذمی روح باقی نہیں رہتا، اس نے انسانوں کے حساب و کتاب کے لئے قیامت کا دن مقرر کر رکھا ہے جب وہ وقت آجائے گا تو وہ سمجھوں کو اکٹھا کرے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا و سزا دے گا اور وہ خوب واقف ہے کہ کون اس دن عذاب کا مستحق ہوگا اور کون اعزاز و اکرام کا وباللہ التوفیق۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت