(14) جس طرح قوم لوط کی بستی کے باقی ماندہ آثار کفار مکہ اور دیگر قوموں کے لئے نشان عبرت ہیں، اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) کے دشمنوں کی ہلاکت بھی اپنے اندر بہت سی نشانیاں لئے ہوئی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو معجزہ عصادے کر فرعون کے پاس بھیجا، تاکہ وہ اسے اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دیں، لیکن فرعون نے تکبر کے ساتھ ان سے اور ان کی دعوت سے منہ پھیر لیا اور ان کے بارے میں اپنی قوم سے کہنے لگا یہ آدمی یا تو جادو گر ہے، یا اسے جنون لاحق ہوگیا ہے، مفسرین لکھتے ہیں کہ اس ملعون کا مقصد اپنی قوم کو بیوقوف بنانا اور دھوکہ دینا تھا، ورنہ اس نے خوب سمجھ لیا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں جن معجزوں کا ظہور ہوا ہے وہ کسی ساحر کا کارنامہ نہیں ہوسکتا اور نہ ہی کوئی مجنون ایسے کارنامے انجام دے سکتا ہے۔