فهرس الكتاب

الصفحة 1117 من 6343

(90) کلام رخ ان بنی اسرائیل کی طرف موڑ دیا گیا ہے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں تھے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت خاصہ کو پانے کے لیے جو شراط موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں تھیں وہی اب بھی ہیں لیکن ان تمام شرائط کی بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کر یم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئیں اور ان کی اتباع کریں اور یہ بنی اسرائیل انہیں خوب اچھی طرح پہچا نتے ہیں اس لیے کہ ان کے نام اور انکی صفات تورات وانجیل میں بیان کردی گئی ہیں۔

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات تمام آسمانی کتابوں میں بیان کی گئی تھیں، اور تمام انبیاء کرام نے اپنی امتوں کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کی خوشخبری دی تھی، اور انہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع کا حکم دیا تھا، تورات وانجیل میں بالخصوص وہ صفات باقی رہیں اور ان کے عالموں کو ان کا خوب علم تھام کعب الا حبار وغیرہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جو صفات قرآن کریم میں بیان کی گئیں ہیں وہی صفات تورات میں پائی جاتی تھیں، جیسا کہ تفسیر طبری اور مسند احمد میں مروی عطاء بن یسار کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، یہاں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک صفت بیان کی گئی ہے اس لیے کہ آپ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے، اور یہ آپ کے لیے ایک معجزہ اور کمال فخر کی بات تھی کہ لکھنا پڑھنا نہ جاننے کے باجود قرآن کو اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی حاصل کیا اور آپ کا سینہ علوم وحکم کے خزانوں سے بھرا ہوا تھا۔

گذشتہ آسمانی کتابوں میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ صفت بھی بیان کی گئی تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھلائی کا حکم دیں گے برائی سے روکیں گے اور اچھی اور پاکیزہ چیزوں کو لوگوں کے لیے حلال کریں گے جو پہلے ان پر حرام تھیں، جیسے چربی اور وہ جانور جنہیں مشرکین نے اپنے اوپر حرام کر رکھا تھا اور خرید وفروخت اور تجارت کی وہ تمام قسمیں جو حرام خوری سے خالی ہوں اور گندگی اور نقصان دہ چیزوں کو ان کے اوپر حرام کریں گے جیسے سور کا گوشت سود اور وہ تمام محرمات جنہیں اللہ نے حرام بنایا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفت تو بھی ہوگی کہ ان کا دین آسان ہوگا، جیسا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، کہ مجھے دعوت توحید اور آسان دین دے کر بھیجا گیا ہے، (مسند احمد) اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاذ اور ابو موسیٰ اشعری (رض) کو دعوت اسلام کے لیے یمن تو فرمایا کہ تم دونوں لوگوں کو خو شخبری دینا، دین سے نفرت نہ دلانا، ان کے لیے آسانی پیدا کرنا انہیں سختی اور پریشانی میں نہ ڈلنا (بخاری) چنانچہ اسلام نے بہت سے مشکل اور تکلیف دہ احکام کو منسوخ کردیا ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے دین میں پائے، جیسے جان کے بدلے جان (دیت یا معافی نہیں تھی) سینچر کے دن کام کرنا حرام تھا ہر ساتوں سال کھیتی حرام تھی اگر کوئی اپنے والدین کو مارتا یا گالی دیتا تو اسے قتل کردیا جاتا وغیرہ۔

(91) اللہ تعالیٰ کا یہ کریمانہ وعدہ ہے کہ جو اہل کتاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں ان کی تعظیم وتوقیر کریں گے ان کی مدد کریں گے اور قرآن کریم کی اتباع کریں گے اللہ تعالیٰ انہیں دنیا وآخرت میں فائزالمربنائے گا یہاں قرآن کو"نور"سے اس لیے تعبیر کیا گیا کہ اس کی عل لمتاب روشنی خود اس کے معجزہ الہی ہونے کی روشن دلیل ہے اور اس لیے بھی کہ وہ رہتی دنیا تک بنی نوع انسان کے لیے روشنی کامیناررہے گا، اور زند گی کے ہر گوشے میں اس کی رہنمائی کرتا رہے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت