فهرس الكتاب

الصفحة 3195 من 6343

5۔ بعض چھوٹے گناہ بغیر قصد و ارادے کے بعض انبیاء کرام سے صادر ہوئے، جس کی وجہ سے انہیں اللہ کا خوف لاحق ہوگیا، جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے غلطی سے ایک قبطی کو قتل کردیا تھا، جس کا احساس انہیں ہر دم رہتا تھا۔ چنانچہ آپ نے دعا کی تھی، رب انی ظلمت نفسی فاغفر لی فغفر لہ، میرے رب ! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے، تو مجھے معاف کردے، تو اللہ نے انہیں معاف کردیا (القصص:16) اسی طرح اس آیت کریمہ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ آپ سے غلطی تو ہوئی تھی، لیکن اللہ نے آپ کے توبہ و استغفار اور نیک اعمال کی وجہ سے اسے معاف کردیا ہے۔

مفسرین لکھتے ہیں کہ اگر کسی نبی سے کبھی ایسا ہوا بھی تو فوراً توبہ و استغفار کیا اور نیک اعمال کیے، جس کے نتیجے میں اللہ نے انہیں معاف کردیا، ان کے حال پر رحم کیا، اور ان کی حفاظت کی، جیسا کہ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی حفاظت کی، حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں انسانوں کے لیے بہت بڑی بشارت ہے، کہ ایک آدمی اگر کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے پھر اس سے صدق دل سے تائب ہوجاتا ہے، تو اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اسے معاف کردے گا، اور اس پر رحم فرمائے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت