فهرس الكتاب

الصفحة 6314 من 6343

سورۃ الکافرون مکی ہے، اس میں چھ آیتیں اور ایک رکوع ہے

تفسیر سورۃ الکافرون

نام: پہلی آیت میں لفظ " الکافرون" آیا ہے یہی اس کا نام رکھ دیا گیا ہے۔

زمانہ نازول: یہ سورت ابن مسعود، حسن اور عکرمہ کے نزدیک مکی ہے، اور قتادہ اور ضحاک کے نزدیک مدنی ہے، اور یہی ابن عباس (رض) کا بھی ایک قول ہے، ابن مردویہ نے ابن عابس (رض) سے روایت کی ہے کہ سورۃ (قل یایھا الکافرون) مکہ میں نازل ہوئی تھی اور ابن الزبیر (رض) سے روایت کی ہے کہ یہ سورت مدینہ میں نازل ہوئی تھی،

صحیح مسلم میں جابر (رض) سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ سورت اور (قل ھو اللہ احد) طواف کی دونوں رکعتوں میں پڑھی اور ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دونوں سورتیں فجر کی دو رکعتوں میں پڑھی اور طبرانی نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ یہ سورت ایک چوتھائی قرآن کے برابر ہے اور احمد، ابوداؤد ترمذی اور نسائی وغیرہ نے معاویہ اشجعی (رض) سے روایت کی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں سکھایا کہ جب تم بستر پر جاؤ تم (قل یا یھا الکافرن) پڑھ کر سو جاؤ، اس سورت میں شرک سے برأت ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت