فهرس الكتاب

الصفحة 3415 من 6343

(28) قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے پر استدلال کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اے میرے نبی ! نزول قرآن سے پہلے آپ کو لکھنا پڑھنا نہیں آتا تھا، آپ تو ان پڑھ تھے، اگر آپ لکھنا پڑھنا جانتے ہوتے تو آپ کی رسالت کے منکرین کو بہانہ مل جاتا اور کہتے کہ محمد کو کوئی پرانی کتاب مل گئی ہے، جس میں سے گزشتہ قوموں کے واقعات لکھ کر لوگوں کو سنا دیتا ہے۔

نحاس کہتے ہیں کہ یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سچے نبی ہونے کی دلیل ہے اس لئے کہ آپ کو لکھنا پڑھنا نہیں آتا تھا، اور اہل کتاب کے ساتھ آپ کا ملنا ثابت نہیں ہے اور مکہ میں یہود و نصاریٰ نہیں پ ائے جاتے تھے، اسکے باوجود ایسی عظیم و بے مثل کتاب لوگوں لوگوں کے سامنے پیش کرنا آپ کی صداقت کی دلیل تھی اور اس بات کی دلیل تھی کہ یہ قرآن کلام اٰلٰہی ہے، اسی لئے آیت (49) میں کہا گیا ہے کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ صریح آیتیں ہیں جو حفاظ قرآن کے سینوں میں ہر دور میں محفوظ رہیں گی، اور ان کا انکار حد سے تجاوز کرنے والے ہی کریں گے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت